شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

فرحان حنیف وارثی

  • غزل


آئینے میں چہرہ رکھ کر سوچوں گا


آئینے میں چہرہ رکھ کر سوچوں گا
میں اب خود کو تنہا رکھ کر سوچوں گا

دور فلک سے اک دن میں بھی ابھروں گا
پھر ٹھوکر میں دنیا رکھ کر سوچوں گا

کس منزل سے میرا رشتہ گہرا ہے
پاؤں تلے ہر رستہ رکھ کر سوچوں گا

میرا جزو بھی جیسے کل میں شامل ہو
دریا میں ایک قطرہ رکھ کر سوچوں گا

یکساں قدریں خسروؔ سے فرحانؔ تلک
سارے لہجے یکجا رکھ کر سوچوں گا


Leave a comment

+