شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

راج کوشک

  • غزل


سہارے بھی اس کے کنارے بھی اس کے


سہارے بھی اس کے کنارے بھی اس کے
مگر ہم جو ڈوبے اشارے بھی اس کے

یہاں لوگ سارے کے سارے ہی اس کے
جو اس کے وہ اس کے ہمارے بھی اس کے

فلک بھی یہ سارا اسی کے حوالے
وہ خود چاند ہے ہی ستارے بھی اس کے

نتیجے یہ سارے ہی ہیں اس کے حق میں
جو جیتے وہ اس کے جو ہارے بھی اس کے

کریں تو کریں کیا کہ رستہ نہیں کچھ
اسی کا ہے غم غم کے مارے بھی اس کے


Leave a comment

+