شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

دویا جین

  • غزل


پھر وہی رات جو تنہائی کے آغوش رہی


پھر وہی رات جو تنہائی کے آغوش رہی
اک انیدی سی غزل خواب میں مدہوش رہی

ہم سے وہ اجنبی اور ان سے تھے انجانے ہم
تا ابد یوں ہی محبت یہ فراموش رہی

پردۂ چشم میں یادوں کے ذخیرے پر شور
جھانکتی ان سے جو تنہائی وہ خاموش رہی

جب تلک پہنچی نہ وہ محفلوں سے محفلوں میں
تب تلک میری وہ رسوائی بھی پرجوش رہی

کیوں ہو شرمندہ وہ انساں کے جرائم پر یوں
کیوں زمیں شب کی سیاہی میں ردا پوش رہی

آنکھ پہ چھائے ہیں ارمان جو تھے زیر دل
داستاں ہر یہاں ہو کے دھواں روپوش رہی

بات پھسلی تھی جو کانوں میں زباں سے لٹکی
طوق بن کے وہ ہی تا عمر سردوش رہی


Leave a comment

+