شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

ماہر عبدالحی

  • غزل


کھو گئے یوں کارخانے یا کسی دفتر میں ہم


کھو گئے یوں کارخانے یا کسی دفتر میں ہم
چھٹیوں میں اجنبی لگتے ہیں اپنے گھر میں ہم

فاصلے سے دیکھنے والا ہمیں سمجھے گا کیا
پیاس کا صحرا ہیں دریاؤں کے پس منظر میں ہم

رات کو سونے سے پہلے کیا کریں اس کا حساب
کتنے سایوں کا تعاقب کر سکے دن بھر میں ہم

بس ہمیں ہم ہیں جہاں تک کام کرتی ہے نگاہ
ایک ذرہ ہیں مگر پھیلے ہیں بحر و بر میں ہم

مختلف خاکوں میں چھینٹوں کی طرح تقسیم ہیں
کیا ابھر کر سامنے آئیں کسی منظر میں ہم

دوسری جانب اندھیرا ہے تو کس امید پر
جاگتی آنکھوں کو رکھ آئے شگاف در میں ہم

ہے یہ مجبوری کہ آنچ آتی ہے چاروں سمت سے
ورنہ سوچا تھا جئیں گے موم کے پیکر میں ہم

ہاتھ جس شے کی طرف لپکے وہ غائب ہو گئی
پھنس گئے ماہرؔ یہ کس آسیب کے چکر میں ہم


Leave a comment

+