شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

وارث کرمانی

  • غزل


بہت دنوں میں ہم ان سے جو ہم کلام ہوئے


بہت دنوں میں ہم ان سے جو ہم کلام ہوئے
دل و نظر ہمہ تن سجدہ و سلام ہوئے

ہنوز جیسے مسیحا کی آمد آمد ہے
اگرچہ عمر ہوئی زندگی تمام ہوئے

شفق سی خیمۂ جاناں کی سمت باقی ہے
تمام وادی و کہسار غرق شام ہوئے

کئی گلے تھے جو شور جہاں میں ڈوب گئے
کئی ستم تھے جو احسان بن کے عام ہوئے

کسی طرف جنہیں راہ گناہ مل نہ سکی
کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں نیک نام ہوئے

افق کے پار کہیں سے لہو اچھلتا ہے
زمیں سے دور بھی کیا کیا نہ قتل عام ہوئے

چلے تھے ان سے مصیبت میں ہم گلہ کرنے
کچھ اور مورد تضحیک خاص و عام ہوئے

رہ طلب میں نئے ریگزار تک پہنچے
وہ تشنہ کام جو صحرا میں تیز گام ہوئے


Leave a comment

+