شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

ابراہیم حماد

  • غزل


وفا کے دعووں پہ ہنس رہا تھا


وفا کے دعووں پہ ہنس رہا تھا
مجھے نیا ہجر ہو گیا تھا

بہت ہی بد شکل نکلی دنیا
میں پہلے پردے پہ دیکھتا تھا

اسے بتاتا تھا میری باتیں
خدا مری کال سن رہا تھا

سمجھ میں کیا آتا میرا لہجہ
کسی کی باتوں میں آ گیا تھا

اتار پھینکی تھی شام سر سے
ابھی تو پارا نہیں چڑھا تھا

تم آج تک رو رہے ہو جو غم
وہ دو دنوں سے زیادہ کا تھا

غریب بیوہ کا ہاتھ تھاما
مدینے جانے کا راستہ تھا

اور اس کی ہریانوی زباں تھی
اور اس کے ہاتھوں میں اک گھڑا تھا

یہ جملہ جو پہلے کہہ دیا ہے
یہ وصل کے عین بعد کا تھا


Leave a comment

+