شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

فرح اقبال

  • غزل


کوئی جب مل کے مسکرایا تھا


کوئی جب مل کے مسکرایا تھا
عکس گل کا جبیں پہ سایہ تھا

زخم دل کی جلن بھی کم تھی بہت
گیت ایسا صبا نے گایا تھا

شب کھلی تھی بہار کی صورت
دن ستاروں سا جگمگایا تھا

ایسے سرگوشیاں تھیں کانوں میں
کوئی امرت کا جام لایا تھا

خواب کونپل بھی تھی تر و تازہ
آرزو نے بھی سر اٹھایا تھا

جس نے مسحور کر دیا تھا فرحؔ
ایک جادو سا ایک چھایا تھا


Leave a comment

+