شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

عبید صدیقی

  • غزل


کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹی


کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹی
زندگی ریت کی دیوار اٹھانے میں کٹی

اب بھی روشن ہے ترے دل میں محبت کا دیا
رات پھر شمع یقیں ساز جلانے میں کٹی

تشنگی وہ تھی کوئی کار وفا ہو نہ سکا
عمر بے مایہ فقط پیاس بجھانے میں کٹی

ساعت وصل جو دیکھے تھے خد و خال ترے
ہجر کی شب وہی تصویر بنانے میں کٹی

ایک انگشت شہادت کہ ابھی باقی تھی
وہ بھی اس بار تری سمت اٹھانے میں کٹی

ویڈیو
This video is playing from YouTube Videos
This video is playing from YouTube عبید صدیقی RECITATIONS عبید صدیقی



00:00/00:00 کار دنیا کے تقاضوں کو نبھانے میں کٹی عبید صدیقی

Leave a comment

+