شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

ڈاکٹر نریش

  • غزل


ذکر ماضی سے شب و روز ستاتے ہیں مجھے


ذکر ماضی سے شب و روز ستاتے ہیں مجھے
میرے احباب ہی دیوانہ بناتے ہیں مجھے

میں تو اک جملۂ با معنی و با مطلب ہوں
اور وہ حرف غلط کہہ کے مٹاتے ہیں مجھے

ایک بے ربط تعلق کا سہارا لے کر
لوگ کیا عشق کے انداز سکھاتے ہیں مجھے

جو تھے اپنے ہی خد و خال سے غافل کل تک
آج وہ لوگ بھی آئینہ دکھاتے ہیں مجھے

کچھ طبیعت ہی بغاوت کی طرف مائل ہے
ورنہ میخانے کے آداب تو آتے ہیں مجھے

کچھ تعلق کوئی نسبت نہیں لیکن پھر بھی
اے نریشؔ آج سنا ہے کہ بناتے ہیں مجھے


Leave a comment

+