شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

اہتمام صادق

  • غزل


یہ حسرتیں بھی مری سائیاں نکالی جائیں


یہ حسرتیں بھی مری سائیاں نکالی جائیں
کہ دشت ہی کی طرف کھڑکیاں نکالی جائیں

بہار گزری قفس ہی میں ہاؤ ہو کرتے
خزاؤں میں تو مری بیڑیاں نکالی جائیں

یہ شام کافی نہیں ہے سیہ لباسی کو
شفق سے اور ذرا سرخیاں نکالی جائیں

تو بچ رہیں گی برہنہ بدن کی سوغاتیں
محبتوں سے اگر دوریاں نکالی جائیں

مرے جلائے دیوں کا بھی کچھ خیال رہے
جو اس مکاں سے کبھی کھڑکیاں نکالی جائیں

یہ کیسی ضد ہے کہ پہلے بدن سے جاں نکلے
پھر اس کے بعد سبھی سسکیاں نکالی جائیں

تو تم بھی میری طرح لڑکھڑانے لگ جاؤ
اگر تمہاری بھی بیساکھیاں نکالی جائیں

یہ خوں بہا بھی ادا کر چکی ہے خوابوں کا
تو میری آنکھ سے اب کرچیاں نکالی جائیں

نکل پڑے گا مرا سر بھی ساتھ ہی صادقؔ
جو میرے سر سے کبھی پگڑیاں نکالی جائیں


Leave a comment

+