شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

اسامہ خالد

  • غزل


رات جھٹکے سے مری نیند کھلی ٹوٹ گئی


رات جھٹکے سے مری نیند کھلی ٹوٹ گئی
کانچ کی چیز تھی ٹیبل سے گری ٹوٹ گئی

شعبدہ‌ باز نے غائب کیا منظر سے مجھے
بے گھری چھوٹ گئی اور چھڑی ٹوٹ گئی

خامشی نام کی اک شے ہے مرے سینے میں
تو مجھے ہاتھ لگا دیکھ ابھی ٹوٹ گئی

قہقہہ دائمی تھا میرا مرے پاس رہا
ماتمی چپ جو مری نام کی تھی ٹوٹ گئی

سانس دیوار ہے جیون کی بہت خستہ مزاج
دو منٹ ٹیک لگے اور بھلی ٹوٹ گئی

تم سے اس واسطے مانوس نہیں ہوتا میں
جو کوئی چیز مجھے اچھی لگی ٹوٹ گئی

زندگی تحفہ ملی جس کو نہیں صرف کیا
بند ڈبے میں نئی چیز پڑی ٹوٹ گئی

اک ذرا رنج نہیں اپنی ہلاکت کا مجھے
دکھ تو یہ ہے تری خاموش روی ٹوٹ گئی


Leave a comment

+