شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

ابراہیم حماد

  • غزل


ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں


ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں
اس کو رہنا ہی نہیں آیا ہمارے دل میں

سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا
لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں

تو نے کیا جرم کیا ہوگا جو میں رہتا رہا
اتنا عرصہ مرے چندا ترے پیارے دل میں

تیرا رونا ترے کچھ کام نہیں آئے گا دوست
سبز بتی پہ نہیں کھلتے اشارے دل میں

اس کی آنکھوں سے جو دیکھے تھے انہی خوابوں نے
آج کل آگ لگا رکھی ہے سارے دل میں

کوئی دو چار نئے زخم کہ رش پڑ جائے
صرف اک ڈر رہا کرتا ہے بے چارے دل میں

سچے دل والی مرے حجرے میں رہتی ہے حضور
میٹھے پانی کا کنواں ہے مرے کھارے دل میں

میرا اللہ مرے ساتھ ہے وہ جانتی ہے
اس نے ڈرتے ہوئے چلوائے ہیں آرے دل میں


Leave a comment

+