شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

غنی اعجاز

  • غزل


آدمی کی حیات مٹھی بھر


آدمی کی حیات مٹھی بھر
یعنی کل کائنات مٹھی بھر

ہاتھ بھر کا ہے دن بچھڑنے کا
اور ملنے کی رات مٹھی بھر

کیا کرو گے سمیٹ کر دنیا
ہے جو دنیا کا ساتھ مٹھی بھر

کر گیا کشت آرزو شاداب
آپ کا التفات مٹھی بھر

اور ملنا بھی کیا سرابوں سے
ریت آئے گی ہاتھ مٹھی بھر

حوصلہ یوں نہ ہارتے اعجازؔ
ہو گئی تھی جو مات مٹھی بھر


Leave a comment

+