شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

ابن الحسن

  • غزل


کھڑکی کھولو کچھ تو یہاں بھی تازہ نرم ہوا آئے


کھڑکی کھولو کچھ تو یہاں بھی تازہ نرم ہوا آئے
منظر صحن‌ چمن کا ابھرے بوئے درد ربا آئے

بے جاں فن میں جان سی آئے زخم تمنا تازہ ہو
یاد میں رنگ حنا کا لہکے رقص میں باد صبا آئے

ماہ گزیدہ رات ہے ساکت جیسے کوئی آئینہ
اوس کے سبزے پر گرنے کی سناٹے میں صدا آئے

فضل خزاں کے سوکھے پتے ہانپ رہے ہیں سائے میں
سایہ اپنے تہہ خانوں میں جائے انہیں پہنچا آئے

پہروں دل سے باتیں کر کے چین سے بیٹھے ہیں ایسے
جیسے جو کچھ بھی کہنا تھا دنیا بھر کو سنا آئے

نہر پہ سایہ بار شجر کے جال سے موجیں الجھی ہیں
کوئی حسنؔ اس الجھا دے کوئی جائے ذرا سلجھا آئے


Leave a comment

+