شریک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

جاں نثاراختر

  • غزل


اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے


اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے
اپنی نظر میں آپ کو رسوا کیا نہ جائے

ہم ہیں ترا خیال ہے تیرا جمال ہے
اک پل بھی اپنے آپ کو تنہا کیا نہ جائے

اٹھنے کو اٹھ تو جائیں تری انجمن سے ہم
پر تیری انجمن کو بھی سونا کیا نہ جائے

ان کی روش جدا ہے ہماری روش جدا
ہم سے تو بات بات پہ جھگڑا کیا نہ جائے

ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر
یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے

لہجہ بنا کے بات کریں ان کے سامنے
ہم سے تو اس طرح کا تماشا کیا نہ جائے

انعام ہو خطاب ہو ویسے ملے کہاں
جب تک سفارشوں کو اکٹھا کیا نہ جائے

اس وقت ہم سے پوچھ نہ غم روزگار کے
ہم سے ہر ایک گھونٹ کو کڑوا کیا نہ جائے

ویڈیو
This video is playing from YouTube Videos
This video is playing from YouTube نامعلوم نعمان شوق RECITATIONS نعمان شوق



00:00/00:00 اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے نعمان شوق

Leave a comment

+