مشترک ہوں اور تازہ ترین معلومات حاصل کریں

شمؔیم ہاشمی

  • غزل

سیر چمن کروں تو وہاں بھی نہ جی لگے


سیر چمن کروں تو وہاں بھی نہ جی لگےِ
پھولوں کی دلکشی میں تمھاری کمی لگے

اچھایٔ کو برایٔ سمجھتے رہے ہو تم
میری ہر ایک بات نہ کیسے بری لگے

جی چاہتا میرا کہ دل کھول کر ہنسوں
لیکن ہنسوں تو اپنی ہنسی کھوکھلی لگے

بے گانہ پن کا جب سے تسلت ہے ذہن پر
اپنا ہر آدمی بھی مجھے اجنبی لگے

چادر اداسیوں کی ہر اک جسم پر ملی
پہلا سا خوش مزاج نہ اب کویٔ بھی لگے

اپنوں کی بے روخی سے وہ یکسر بدل گیا
دیکھو شمؔیم کو تو کویٔ اور ہی لگے

Leave a comment

+